ڈھاکہ 3/ستمبر (ایس او نیوز؍ ایجنسی) بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے اہم فائنانسر میر قاسم علی کو 1971 کے جنگی جرائم کے لئے پھانسی دے دی گئی ہے ۔ قاسم کو پھانسی دینے کا حتمی حکم جیل حکام کو سونپ دیا گیا تھا ۔ جیل حکام نے پھانسی سے قبل میرقاسم علی کی اہل خانہ سے آخری ملاقات کرائی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ ان کو مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجےپھانسی دی گئی۔
میر قاسم علی کی جانب سے عدالت میں سزائے موت کے فیصلے پرنظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی مگر منگل کو سپریم کورٹ نے میر قاسم کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی، مگر صدر سے اپیل کی جاسکتی تھی، مگربتایا گیا ہے کہ میر قاسم نے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
غازی پور پولیس اسٹیشن کے آفیسررسل شیخ کا کہنا ہے کہ میر قاسم علی کی پھانسی کے وقت جیل اور اس کے اطراف میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے ضلع میں تعینات کئے گئے تھے۔
پھانسی سے قبل میر قاسم علی کی ان کے خاندان کے تیئس افراد سے آخری ملاقات کرائی گئی۔ ملاقات کے بعد ان کی صاجزادی طاہرہ تسنیم کا غیرملکی میڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھاکہ میر قاسم بے گناہ ہیں اور ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
قاسم علی سنہ 1971 کی جنگ میں بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی شہر چٹاگانگ میں پورٹ پر اہم کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں تھیں ، بعد میں شپنگ اور زمینوں کے خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک ہوئے اور رئیل اسٹیٹ ٹائیگون بن کر ابھرے۔ 63 سالہ میر قاسم علی ایک معطل ٹی وی چینل سمیت کئی میڈیا ہائوس اور کافی کاروباری اداروں کے مالک تھے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل حسینہ واجد حکومت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے چار اور رہنماؤں کو بھی سنہ 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے پر پھانسی کی سزا دلوا چکی ہے۔